Orhan

Add To collaction

تو جو مل جائے

تو جو مل جائے
 از انا الیاس
قسط نمبر1

فجر کی نماز پڑھ کر وہ سوئيں نہيں بلکہ اوپر چھت پر آگئيں وہ بھی آموں کی بھری ٹوکری لے کر۔چھٹياں تھيں اور ملک ہاؤس ميں سب اکھٹے تھے۔ 
رات ساری جاگ کر بھی ان ميں سے کسی کے چہرے پر نيند کا خمار نہں تھا۔ 
سب چڑھتے سورج کا خوش کن منظر ديکھنے کے بعد نيچے تپائ بچھا کر بيٹھيں آم کھانے ميں مصروف تھيں۔ 
يہ آئيڈيا بھی وہيبہ کا تھا جسے گھر بر ميں سب کی ليڈر کہا جاتاتھا۔ نہ کسی سے ڈرتی تھی نہ کسی کے قابو آتی تھی ويسے بھی اسے رقيہ بيگم جو کہ کسی کی نانی اور کسی کی دادی تھيں، انکی بے جا حمايت حاصل تھی۔ 
"يار ايک کام کرتے ہيں" وہيبہ نے ادھر ادھر ديکھتے کہا۔ آنکھوں ميں ايک مخصوص شرارتی چمک تھی جو کوئ بھی شرارت کرنے سے پہلے اسکی آنکھوں ميں جھلکتی تھی۔ 
"اب کيا تخريبی بات سوچ رہی ہو" نيہا جو اسکی رگ رگ سے واقف تھی آموں کی گٹھلياں ايک پليٹ ميں رکھتی ہوئ بولی۔
"يار دور دور ديکھو تو چھتوں پر نہ تو کوئ بندہ اور نہ ہی کوئ بندے کی ذات نظر آ رہی ہے تو مجھے يکدم يہ خيال آيا ہے کہ کيوں نہ ہم پچھلے بنے ہوۓ گھروں کی چھت پر آموں کی گٹھلياں پھينکنے کا ايک مقابلہ کرتے ہيں ديکھتے ہيں کہ کس کی گٹھلی کتنی دور جاتی ہے۔۔کيسا" اس نے پرجوش انداز ميں کہتے سب کی جانب تاديبی انداز سے ديکھا۔ 
دل تو سب کا اس شرارت ميں حصہ لينے کا کيا مگر خبيب۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی دہشت انہيں کچھ بھی کرنے سے روکتی تھی۔ 
"اگر بھائ کو پتہ چل گيا" فارا نے ہچکچاتے کہا۔ 
"اف ايک تو تمہارا يہ بھائ۔۔۔يار انہيں کون بتاۓ گا۔ يہاں جتنے لوگ ہيں وہ تو بتانے سے رہے" اس نے سواليہ نظروں سے سب کی جانب ديکھا۔ 
"نہيں ہم تو نہين بتائيں گے" سب نے يک زبان ہو کر کہا۔ وہ اس وقت چھ لڑکياں چھت پر تھيں۔ سب کی عمروں ميں چند سالوں کا فرق تھا مگر وہ سب مل کر سب شرارتيں کرتيں اور پورے خاندان ميں شرارتوں کا ٹولہ کے نام سے مشہور تھيں۔ جن کی سردار وہيبہ تھی۔ 
"تو بس پھر ڈن ہوگيا ہم يہ چيلنج ابھی بھی پورا کريں گے۔ مگر آوازيں آہستہ رکھنی ہيں" سرگوشی نما آواز مين اس نے سب کو حوصلہ دلايا۔ 
سب جوش سے اٹھيں اور پچھلی جانب بنے گھروں کی چھت پر باری باری آموں کی گٹھلياں برسنی شروع ہوئيں۔ 
سب سے آخری باری وہيبہ کی تھی۔ 
اس نے سب کی جانب پہلے ہی فاتحانہ نظروں سے ديکھنا شروع کيا ايسے جيسے جيت تو اسی کی ہونی ہے۔ 
مگر بھلا ہو اس اوور کانفيڈينس کا جو اسے لے بيٹھا۔ 
جيسے ہی اس نے گٹھلی اچھال کر ہوا کے سپرد کی وہ بالکل پيچھے دائيں جانب بنے ہوۓ گھر کی چھپ پر گری جس پر يکدم ايک سر نمودار ہوا۔ 
وہ سا کی سا اپنی چھت پر بيٹھ گئيں چاروں جانب کی ديواريں اتنی اونچی تھيں کہ کوئ انہيں ديکھ نہيں سکتا تھا۔ 
شہريار جو پچھلے آدھے گھنٹے سے کانوں ميں ہينڈ فری لگاۓ يوگا کا ايک آسن پورا کر رہا تھا۔ آنکھيں موندے ليٹے اور کانوں ميں تيز ميوزک لگاۓ وہ دنيا جہاں سے بے خبر تھا اور شايد بے خبر ہی رہتا جو آم کی گھٹلی اسکے منہ پر پڑ کر اسکے چودہ طبق روشن نہ کر ديتی۔ وہ بھنا کر اٹھا مگر کچھ سروں کو نيچے جھکتے ديکھنے کے علاوہ وہ کچھ نہ کرسکا۔ چھتوں ميں فاصلہ زيادہ ہونے کے سبب وہ آگے ہوکر ديکھ نہيں سکتا تھا کہ کون ہے اور يہ حرکت کس نے کی ہے۔
وہ کچھ دير وہاں کھڑا رہا کہ آخر کوئ تو ہل جل ہوگی اور وہ اس شخص کو پکڑے گا جس نے يہ حرکت کی مگر وہ نہين جانتا تھا کہ يہ وہ شيطانوں کا ٹولہ تھا جسکی تخريب کاری کو کوئ رنگے ہاتھوں کبھی نہين پکڑ سکا تھا۔ وہ سب آہستہ آہستہ سے تقريباّّ رينگتی ہوئي سيڑھيوں کی جانب بڑھيں۔ 
شہريار تنگ آکر واپسی کی جانب مڑا۔ جبکہ ان سب نے نيچے کی جانب دوڑ لگا دی۔ 
اسی وقت سيڑھيوں سے اترتے ہوۓ خبيب نے اوپر سے آتے ريوڑ کو آندھی کی طرح سيڑھياں اترتے ديکھا۔
مگر جب انہوں نے آخری سيڑھی پر کھڑے خبيب کو اپنی جانب گھورتے پايا تو سب کی سب وہيں دم سادھے کھڑی ہوگئيں۔ 
اسکی خشمگيں نگاہوں نے خون خشک کرديا۔ سواۓ وہيبہ کے۔ وہ تو ويسے بھی اماں جان کی لاڈلی تھی کوئ اسے کچھ کہہ کر تو دکھاتا۔ 
خبيب نے اسکے تاثرات کو نخوت سے ديکھتے ہوۓ پيچھے ہٹتے ان سب کو ہاتھ کے اشارے سے نيچھے آنے کا اشارہ کيا۔ جان گيا تھا کہ کچھ تو کرکے اتريں ہيں۔ دل تو کيا کہ ابھی کے ابھی کلاس لے لے۔ مگر صبح صبح وہ اپنا موڈ خراب نہيں کرنا چاہتا تھا اسی لئيۓ سر جھٹکتا جاگنگ کے لئيے نکل گيا۔ 
"اف شکر بچت ہوگئ نہيں تو ابھی عزت ہو جانی تھی بھائ کے ہاتھ۔" نيہا کے کہنے پر وہيبہ نے منہ بنا کر اسے ديکھا۔ 
"تم تو ساری زندگی ڈر ڈر کر گزار دينا اتنا کوئ جنات کا سردار نہيں ہے تمہارا بھائ" اسکی بات پر نيہا تلملائ۔ وہ جو اتنا غصيلا ہونے کے باوجود سب کا پسنديدہ تھا نجانے وہيبہ کو اس سے کيا پرخاش تھا۔
"تمہيں مسئلہ کيا ہے بھائ سے" اس نے تنگ آکر پوچھا۔ 
"کوئ ايک مسئلے ہی مسئلے۔۔۔۔مجھے ايسے ہيرو ٹائپ بننے والے لوگ بہت برے لگتے ہيں۔ نہ منہ نہ متھا جن پہاڑوں لتھا۔"اوہ پليز اب اپنے بھائ کی شان ميں قصيدے مت پڑھنے شروع کر دينا۔۔ميرے خيال ميں تو ہمارے يہاں جتنی گجروں پر مبنی فلميں بنتی ہيں ان مين تمہارے چہيتے بھائ کو کاسٹ کرنا چاہئيۓ۔ شان ايويں ميں اپنا اميج خراب کرتا ہے۔ تمہارا بھائ سوٹيبل ہے ايسے رول کے لئيۓ" اس نے خبيب کی اس چیز کا مذاق اڑايا جو حقيقت ميں اسے بہت سوٹ کرتی تھيں۔ گھنی مونچھيں اور داڑھی۔ "ہر وقت حکم نامے ہی ختم نہيں ہوتے ہر کوئ انکے حکم پر چلے۔ بيٹھے تو انکی اجازت سے، سوۓ تو انکی اجازت، سے سانس لے تو ان سے پوچھ کر بھلا يہ کيا بات ہوئ۔" وہ تو شديد چڑی ہوئ تھی۔ 
وہ تھا بھی ايسا انہتائ نفاست پسند اور ڈسپلنڈ۔ فضول کی باتوں ميں نہ پڑھنے والا آجکل کے لڑکوں کی طرح اس نے کبھی وقت ضا‏ئع نہين کيا تھا۔ اس نے اپنی لائف کے کچھ گولز سيٹ کئيے تھے اور کاميابی سے انہين پورا کر رہا تھا۔ چھوٹی عمر سے ہی اس مين سنجيدگی تھی۔ سنجيدہ مگر سب کی عزت کرنے والا سواۓ وہيبہ کے وہ بھی اسکی اوٹ پٹانگ اور کسی حد تک بولڈ حرکتوں کی وجہ سے وہ عام لڑکيوں کی طرح ڈرتی ورتی کسی سے نہين تھی نا کسی کے رعب مين آتی تھی۔ اسی لئيۓ وہ اسے بہت بری لگتی تھی۔
اسے لڑکيوں ميں دھيما مزاج پسند تھا اور وہ اسکے بالکل الٹ تھی اسی لئۓ وہ کبھی بی اسکی گڈ بکس ميں شامل نہيں رہی تھی۔ وہيبہ کو اس سے کبھی بھی کوئ فرق نہيں پڑھا تھا۔ اسکے خيال ميں اس نے کون سا ساری زندگی خبيب کے ساتھ رہنا تھا۔ اور کبھی کبھی جب ہم کسی سے جتنی تيزی سے دور بھاگ جانا چاہتے ہيں اس شخص ميں ايسی کشش ثقل پيدا ہو جاتی ہے جو ہميں ہر جگہ سے کھينچ کانچ کر اس ايک شخص کی طرف لے آتی ہے۔
_________________
اور اگلے دن وہ ہوا جس کے بارے ميں ان کا گمان بھی نہ تھا۔ 
"يار آج ہمارے ساتھ بہت بری ہونے والی ہے۔"فارا روہانسی شکل بناۓ اندر داخل ہوتے بولی۔ 
"ايک تو تم ہر وقت روتی رہتی ہو" وہيبہ نے بيزاری سے اسے ديکھتے ہوۓ کہا۔ 
جو خود ڈائجسٹ پڑھنے ميں مگن تھی۔ 
"ہوا کيا ہے" ربيعہ نے پوچھا 
"يار وہ کل صبح ہم نے جب گٹھلياں پھينکيں تھين نہ اور آخر ميں وہيبہ کی گٹھلی جس بندے کو لگی تھی وہ خبيب بھائ کا دوست ہے اور اس وقت وہ ڈرائينگ روم مين آيا ہوا ہے۔ اس نے بتا بھی ديا ہے کہ ہمارے گھر سے کسی نے يہ حرکت کی ہے۔ اسے يہ تو نہين پتہ کہ کس نے کی ہے وہ يہی سمجھا ہے کہ کسی بچے کی حرکت ہے مگر يار خبيب بھائ نے ہميں سيڑھياں اترتے ديکھ ليا تھا انہيں سمجھ آگئ ہوگی کہ ہم ہی ہيں" فارا کی بات پر وہاں بيٹھی نيہا، ورشہ، فضا، اور صبغہ کی ہوائياں اڑيں سواۓ وہيبہ کے۔ وہ سب اپنے کام چھوڑ کر ہاتھ اور يقيناّ اب تو سانس روکے بھی فارا کی جانب متوجہ تھيں۔ جبکہ وہيبہ کی کہانی اہم موڑ پر آچکی تھی۔ 
"وہيبہ کچھ سنائ ديا ہے تمہيں" ان سب نے دانت پيستے ہوۓ اسکی محويت پر چزٹ کی۔ 
" ‎ کچھ سنائ نہيں دے رہا۔۔۔۔ ايک تو تم لوگوں نے ميرے ناول ميں ٹانگ ضرور اڑانی ہوتی ہے۔ بمشکل تو ہيرو اور ہيرو ئن کا پيخ اپ ہوا تھا۔ کہ تم ٹپک پڑيں ولن بن کر" وہيبہ نے بدمزہ ہوتے ڈائجسٹ بند کرکے بيڈ پر پٹخا۔ 
"ايک تو تہارا بھائ جلاد اوپر سے اسکے دوست بھی ويسے ہی شکايتی ٹٹو۔۔۔۔گٹھلی ہی ماری تھی کون سی گولی مار دی تھی جو منہ اٹھا کر بتانے آگيا۔ ٹھہر جاؤ ميں ابھی دو دو ہاتھ کرکے آتی ہوں" وہ ايک دم ہی شروع ہوتی کسی آندھی طوفان کی طرح باہر نکلی يہاں تک کہ ان سب کو کچھ سمجھنے کا بھی موقع نہيں ديا۔ 
اب وہ سب پچھتا رہيں تھيں کہ اس بھيڑوں کے چھتے کو کيوں چھيڑ ديا۔ اب تو لگ رہا تھا پانی پت کی جنگ ہو کر رہنی تھی دونوں ميں۔ 
وہ تيزی سے ڈرائينگ روم کے دروازے کی جانب بڑھی اور اتنی ہی دير ميں خبيب اپنے روست کے ساتھ باہر نکلا۔ 
انکے گھر کی کسی لڑکی کو يوں لڑکوں کے دوستوں کے سامنے آنے کی اجازت نہين تھی۔ 
وہيبہ بھی اتنی بے باک نہيں تھی کہ يوں غير مردوں کے سامنے چلی جاتی مگر اس وقت صرف اتفاق تھا وہ تو انکی باتين سننے کے لئيے جا رہی تھی کيا خبر تھی کہ ايسا تصادم ہوجاۓ گا۔ 
وہ ٹھٹھکی پھر جلدی سے مڑ کر واپس چلی گئ مگر خبيب کی قہر برساتی نظروں کو خود پر ديکھ چکی تھی۔
کچھ دير بعد ان سب کی جاضری اماں کے کمرے ميں ہوئ جہاں خبيب پھولے منہ کے ساتھ پہلے سے ہی موجود تھا۔ 
"وہیبہ بيٹا ميں يہ کيا سن رہی ہوں" انہوں نے عينک کے پيچھے سے تاسف بھری ںظروں سے ديکھا۔ 
"مين سمجھتی تھی تم بڑی ہوچکی ہو" وہ پھر سے مخاطب ہوئين۔ 
"اماں کيا ہے اب کيا ہم بڈھے ہو کر شرارتيں کريں گے۔ اور ويسے بھی ہم نے چھتيں خالی ديکھ کر يہ ايکٹيويٹی کی تھی، ہميں کيا پتہ تھا کہ ان کا دوست وہاں اينٹھ رہا ہے" اس نے سر کو ايک انداز سے جھٹکتے ہوۓ کہا۔ 
خبيب کا دل تو کيا اس مغرور حسينہ کا دماغ ٹھکانے لگا دے وہ ايسا کر بھی ديتا اگر وہ اماں جی کی لاڈلی نہ ہوتی۔ 
"اماں جی کيا يہ سب ان لوگون کو زيب ديتا ہے۔ انکی تو ايک شرارت ہے نام تو ہمارا ہی بدنام ہوگا نہ کہ ہم نے ان لوگوں کو کوئ تميز نہين سکھائ۔۔۔يہ لوگ اب اتنی بچياں نہيں ہين اگلے گھروں مين جانے کی عمريں ہو چکی ہيں وہاں کيا يہ سب حرکتيں کريں گی" خبيب نےسب کو ہی لپيٹ مين ليا جانتا تھا کہ اس اکيلی کو کچھ نہيں کہہ سکتا۔
"بيٹا جو بھی ہے بحرحال يہ بات ٹھيک نہيں ہے۔ تم جانتی ہو ميں نے کبھی تمہيں کسی بات کے لئيۓ نہيں روکا مگر تم نے انجانے مين ہی سہی ايک بندے کو ہرٹ کيا ہے۔ چلو خبيب سے سوری کرو اور آئندہ احتياط کرنا" ان کے کہنے پر وہيبہ نے کچھ چڑ کر اسکی جانب ديکھا جو آنکھوں ميں غصہ بھرے اسی کی جانب ديکھ رہا تھا۔ 
"کيا ميں نے حملہ انکے سر پر کيا تھا" اس نے اب کی بار بھول پن کا ريکارڈ توڑتے آنکھيں پٹپٹاتے اسکی جانب ديکھا کہ اسکی حرکت پر باقی سب لڑکياں کھی کھی کرنے لگيں۔ 
"وہيبہ" اماں جی کی تنبيہی پکار پر اس نے منہ بناتے سوری کہا۔ 
"اور آئندہ کوئ بھی لڑکی مجھے ڈرائينگ روم کے قريب نظر نہ آۓ خاص طور پر جب ہم لڑکوں کے دوست آۓ ہوں" اس کا غصہ ابھی بھی کم ہونے کا نام نہيں لے رہا تھا لہذا اٹھتے ہوۓ وہ سب کو وارن کرتا باہر نکل گيا مگر جانے سے پہلے ايک تيز نظر اس پر ڈالنی نہيں بھولا تھا جو ابھی بھی غير سنجيدہ دکھائ دے رہی تھی۔ 
"تم سب جاؤ۔۔وہيبہ تو يہيں رکو" سب کو جانے کا اشارہ کرتيں وہ اس کو رکنے کا اشارہ کرنے لگيں۔ 
"ميری تربيت ميں کہيں اخلاق سے گرنے کی گنجائش نہين لہذا آئندہ احتياط کرنا" وہ جتنی مہربان تھيں اسی قدر سخت مزاج بھی تھيں۔ وہيبہ نے ايک خاموش نظر ان پر ڈالی جو اپنی بات کہہ کر ہاتھ ميں پکڑی کتاب کی جانب متوجہ ہوچکی تھيں۔ اس کا مطلب تھا کہ اب باہر چلی جاؤ۔وہ اسی خاموشی سے باہر نکل گئ۔ وہ انکے اس انداز کے آگے کبھی کچھ بول نہيں پاتی تھی۔

   1
0 Comments